Saturday, 8 September 2012

How does it feel? (URDU)

کیسا محسوس ہوتا ہے جب آپ کو کوئ پتھر مارے؟ کوئ ایسا آپ کو دھتکارے جو آپ کا سب کچھ ہو؟ جسے آپ اپنی زندگی تصور کر بیٹھے ہوں؟ میں بتاوِٓں؟ بہت تکلیف ہوتی ہے۔

جاننا چاہتی ہو تو کبھی بہتے سمندر کے کنارے اپنے کس عزیز، اپنے ہمدم یا اپنے ہمسفر کے ساتھ ننگے پاوٓں چلنا، اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں ڈال کر اپنی زندگی کے ان حسین لمحات کو یاد کرنا جو کبھی نہ کبھی تمھاری مسکراھٹ کا سبب بنے ہوں یا ان تلخ حقیقتوں پر نظر ڈالنا جنھوں نے تمھاری روح کو دبوچا ہو اور تمھیں ازیت پہنچائ ہو،تصور کرنا کہ اب تمھارا ساتھی،تمھارا یار،تممھارا کُل اب آگے بڑھ گیا ہے اور تمھاری ایڑھی میں کوئ نُوکیلا پتھر چبھ جاےٓ اب تم تکلیف اور کرب میں اسقدرگھِر چکی ہو کہ تم چیخ رہی ہواور درد کی شدت سے آہ و بکا کی کیفیت میں ہو لیکن تمھارد مدد کے لیے کوئ آگے نہیں آتا اور آہستہ آہستہ وہاں سے سب چلے جاتے ہیں مگر تم، تمھاری نظریں اب بھی اپنے ہمسفر کے وجود پر ٹکی ہوئ ہیں تم اب بھی اسے پکار رہی ہو لیکن اُسے سمندر کے ساحل پر کوئ دوسری شے نے اپنی خوبصورتی کا اسیر کر لیا ہے اور وہ بنا تمھارے خیال کے اُس شے کی جانب بڑھتا جارہا ہے اور یہ سب تمھاری نظروں کے سامنے ہورہا ہے لیکن تمھارے زخم کی شدت اس درجہ ہے کہ تم اُس کا پیچھا نہیں کر پارہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ تمھاری نظروں سے اوجھل ہوگیا اور تمھارے پاس سوا اس درد اور زخم کو ساتھ لیے واپس جانے کے کوئ چارا نہیں۔ تم کسی طرح اپنے زخمی وجود کو سنبھالے گاڑی کا رُخ کرتی ہو،اب تمھارے درد کی شدت میں بےانتہا اضافہ ہوچکا ہے اور تمھارا پیار اب غصے میں تبدیل ہوگیا ہے تم اُسکے لوٹنے پر بہت بحث کرتی ہو اُسے اسکی غلطی اور بے رُخی کا احساس دلاتی ہو مگر وہ اس چیز اس واقعے کو مرہونِ خاطر نہیں لاتا اور اپنی دھُن میں مست گاڑی چلاتا رہتا ہےمگر وہ دل ہی دل میں تمھارے اس رویے سے نالاں ضرور ہے جو تمھیں اسکے خفا اور غصیلے انداز میں چند ہی روز میں دکھ جاتا ہے۔تم اُس سے ایک بار پھر الجھتی ہو اسے اسکے غلط ہونے کا احساس کروانا چاھتی ہو مگر وہ جوں کا توں نہیں ہوتا بلکہ اب تو تم پر ہی برس جاتا ہے تم اسے اپنی محبت کے دعوے،چند حسین خواب،اپنے عشق کے افسانوں کو سنا سنا کے اسکی دہایاں دیتی ہو مگر وہ فقط ایک جملے سے تمھارا برہم، تمھارا مان چکنا چور کردیتا ہے کہ اس نے تمھیں یہ سب کرنے کے لیے نہیں کہا۔ بعد از تمھیں احساس ہوتا ہے کہ گو اُسنے کچھ غلط بھی نہیں کہا۔ تم نے خود اسکی زات کو اپنے لیے خُدا بنایا ہوا ہےـ

واقعی اسِ خیال سے، اس چند منٹ کی سوچ سے سے تم ایک اور خُدا بنانے سے بچ جاوٓگی۔ بہت تکلیف ہوتی ہے جب کوئ اپنا یوں اپنی نظروں سے گرادے۔ ہم کسی کے دل میں اپنے لیے محبت تلاش تو شاید کرسکتے ہوں مگر کسے کو اپنا گرویدہ نہیں بنا سکتے کیونکہ جب کسی کی نظروں سے گرو تو کوئ دنیاوی طاقت تمھیں اُسی شخص کے سامنے دوبارہ کھڑا نہیں کر سکتی۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے مگر بہت لوگوں کو اسکی سمجھ اپنے وجود کے ٹکڑے ہو جانے کے بعد ہی ہوتا ہے۔ کبھی  کسی ریشم کے کپڑے کوکانٹوں پر ڈال کر بےدردی سے کھینچنا، یہ وہ درد ہے جو کسی اپنے کے دُھتکارے جانے،کسی ہمسفر کی نظروں سے گرِجانے پر ہوتا ہے۔

No comments:

Post a Comment